حق کا متلاشی ابن رشد

حق کا متلاشی ابن رشد

ابن رشد حق کا متلاشی

Muhammad Amin

Muhammad Amin

ابن رشد کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ انسان کا ذہن محض ایک طرح کی صلاحیت یا طبع ہے جو خارجی کائنات سے ذہانت حاصل کرکے اُسے عملی شکل دیتا ہے۔

فلسفی، ریاضی دان، ماہر علم فلکیات، ماہر فن طب اور مقنن۔ قرطبہ میں پیداہوئے۔ ابن طفیل اور ابن اظہر جیسے مشہور عالموں سے دینیات، فلسفہ، قانون، علم الحساب اور علم فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔ خلیفہ یعقوب یوسف ک عہد میں اشبیلیہ اور قرطبہ کے قاضی رہے۔ ہسپانوی خلیفہالمنصور نے کفر کا فتویٰ عائد کرکے ان کی تمام کتب جلادیں اور انہیں نظر بند کر دیا۔ چند ماہ کی نظر بندی کے بعد مراکش چلا گئے۔ اور وہیں وفات پائی۔ ارسطو کے فلسفے پر نہایت سیر حاصل شرحیں لکھیں جن کے لاطینیاور عربی کے علاوہ یورپ کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ انسان از خود یا پیدائشی طور پر ذہین نہیں ہوتا۔ تمام انسانوں میں ذہانت مشترک ہے اور شخصی دوام کا نظریہ بے بنیاد ہے۔ نیز مذہب اور فلسفیانہ حقیقت میں تضاد ممکن ہے۔ یوں تو ابن رشد نے قانون، منطق، قواعد زبان عربی۔ علم فلکیات اور طب پر متعدد کتب لکھی ہیں۔ مگر ان کی وہ تصانیف زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔ جو ارسطو کی مابعدالطبیعات کی وضاحت اور تشریح کے سلسلے میں ہیں۔

 محمد امین گورنمنٹ ڈگری کالج صادق آباد رحیم یار خان مین بی ایس سی فائنل کے طالب علم ہیں، فلسفہ، آرٹ اور تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور اس حوالے سے مختلف رسائل اور جرائد میں لکھتے بھی رہتے ہیں۔ 

No comments.

Leave a Reply